امامت و جماعت

بیوی کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا اور بیوی کا اقامت کہنا

فتوی نمبر :
11590
| تاریخ :
2011-04-19
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بیوی کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا اور بیوی کا اقامت کہنا

کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ سکتا ہوں؟ اور کیا اس طرح میری بیوی میری امامت میں تکبیر کہہ سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ شوہر کا اپنی اہلیہ کو جماعت کروانا جائز ہے، مگر اس دوران وہ دونوں ساتھ کھڑے نہ ہوں، بلکہ بیوی تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو۔
۲۔اس صورت میں بھی بہتر تو یہی ہے کہ شوہر خود ہی اقامت کہہ کر نماز شروع کر وادے اور اگر اہلیہ سے کہلوائے تو بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی حاشية ابن عابدين : تحت (قوله و خصه الزيلعي إلخ) (إلی قوله) المرأة إذا صلت مع زوجها في البيت ، إن كان قدمها بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتهما بالجماعة ، و إن كان قدماها خلف قدم الزوج إلا أنها طويلة تقع رأس المرأة في السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتهما لأن العبرة للقدم اھ (1/ 572)۔
و فی البحر الرائق : و قالوا ان المرأة تقیم و لا تؤذن اھ (۱/ ۲۵۷)۔
و فیہ أیضاً: (قوله : لا للنساء) أي لا يندب للنساء أذان و لا إقامة ؛ لأنهما من سنن الجماعة المستحبة قيد بالنساء أي جماعة النساء ؛ لأن المرأة المنفردة تقيم و لا تؤذن اھ (۱/ ۲۵۹)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظہیر یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11590کی تصدیق کریں
0     2452
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات