امامت و جماعت

پنچ پیری امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
12317
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

پنچ پیری امام کے پیچھے نماز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں اہلِ اشاعت التوحید جو پنج پیری حضرات کہلاتے ہیں، کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے، جو پڑھی گئی ہیں کیا ان کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا کہ نہیں؟ ہماری مسجد کے امام بھی پنج پیری ہیں اور وہ کھل کر تو نہیں، پر کسی نہ کسی طریقہ سے اپنے مذہب کا پرچار کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کا رجحان بھی اپنے عقائد کی طرف کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے اسلام کو کبھی کبھی برا بھلا بھی کہتے ہیں، جواب عنایت فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جمہور اہلسنت والجماعت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور اسی طرح دیگر تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اجمعین اپنی قبور میں حیات ہیں اور ان کی حیات مثلِ دنیاوی، بلکہ اس سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے، مگر بایں ہمہ یہ حیات برزخی ہے اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ اہلسنت والجماعت سے خارج اور بدعتی ہے، جس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے، اور اسلاف کو سب و شتم کرنا فسق و فجور اور علاماتِ قیامت میں سے ہے، جبکہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ مذکور منصب کیلیے ایسے شخص کا انتخاب کریں جو متقی و پرہیزگار اور صحیح العقیدہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ مسائلِ نماز سے اچھی طرح واقف اور قرآنِ کریم بھی اچھی طرح پڑھ سکتا ہو اور یہ کہ امتِ مسلمہ اور اہلسنت والجماعت کے اجتماعی مسائل میں چھیڑ چھاڑ سے احتراز کرتا ہو، جبکہ اس امام کی اقتداء میں پڑھی گئی سابقہ نمازوں کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الترمذی: عن ابی هریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ – صلی اللہ علیه وسلم - اذا اتخذ الفئی دولا (إلی قوله علیه السلام) ولعن اخر هذہ الامة اولها فلیرتقبوا عند ذلك ریحا حمرائ وزلزلة وخسفا ومسخا وقذفا دایات تتابع کنظام بال قطع سلکه فتتابع اه (ج۲ ،ص۴۵)
وفی تکملة فتح الملهم: وبالجملة فان هذہ الاحادیث مع حدیث الباب تدل علی کون الانبیاء أحیاء بعد وفاتهم، وهو من عقائد جمہور اہل السنة والجماعة الخ (ج۵، ص۳۰)
وفی الدر: ویکرہ امامة عبد واعرابی وفاسق واعمی ومبتدع لا یکفر بہا وان کفر لا یصح الاقتداء اصلا اه (ج۱، ص۵۵۹) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہد فیاض احمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 12317کی تصدیق کریں
2     3850
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات