کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میرے والد کو پیسوں کی شدید ضرورت ہے، اگر میرے والد میرے چچا کو اپنا گھر تین لاکھ روپے میں فروخت کر دیں، اور بعد از فروخت ماہانہ کرایہ ادا کریں ،اور کچھ مہینے بعد چچا سے واپس قسطوں پر گھر 6 لاکھ پر خریدنے کا معاہدہ کر لیں ،جو 9 سالوں میں ادا کرنے ہیں ؟ ماہانہ تقریباً 6000 روپے ادا کرنے ہونگے ؟ کیا یہ معاہدہ شر عاًدرست ہے ؟ اگر نہیں تو کوئی ایسی صورت بتلائیں کہ بروقت رقم بھی مل جائے اور قرض دینے والے کا بھی کوئی بھلا ہو ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور گھر فروخت کرنے کے بعد مذکور چچا کو اس مکان سے متعلق قبضہ اور تصرفات کا پورا اختیار حاصل ہو جائے، اس طور پر کہ اگر وہ با ہر کسی دوسرے گاہک پر فروخت کرنا چاہے، تو اسے قانوناً و شرعاً کوئی رکاوٹ نہ ہو، بلکہ اس عقد میں بھی وہ آزاد ہو ،اور دوسرا یہ کہ خریدنے کے بعد واپس سائل کے والد پر ہی ادھار میں بیچنا پہلے سے مشروط نہ ہو ،اور اس صورت میں چچا مذکور مکان کو خریدنے اور اس پر مالکانہ تصرفات حاصل ہونے کے بعد جب بھی اپنے مذکور بھائی پر نقد یا ادھار تھوڑی یا زیادہ قیمت کے عوض جیسے چاہے بیچ سکتا ہے ۔ مگر اس دوسری خریداری کے دوران مجلسِ عقد ہی میں یہ طے ہو جانا چاہیئے کہ مذکور معاملہ ادھار پر ہوگا، مکان کی کل مالیت اتنی ہوگی، ماہانہ قسط اتنی ہو گی اور کسی قسط کے مؤخر ہونے پر کوئی جرمانہ وغیرہ نہیں لیا جائے تو اس صورت میں مذکور دونوں عقد بلا شبہ جائز اور درست کہلائیں گے۔
كما في الهداية : الايرى أنه يزاد في الثمن الأجل الأجل اھ (۳/ ۷۴)۔
و في المبسوط للسرخسى: فان كان یتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وانما العقد عليه فهو جائز اھ (۱۳/۷۱۸)في أحكام القرآن للجصاص: وقوله يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه قد تضمن الأمر بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وظاهره يقتضي الوجوب وهو فرض عندنا فمتى فعلها الإنسان مرة واحدة في صلاة أو غير صلاة فقد أدى فرضه وهو مثل كلمة التوحيد والتصديق بالنبي صلى الله عليه وسلم متى فعله الإنسان مرة واحدة في عمره فقد أدى فرضه اھ (5/ 243)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1