اگر ایک شخص کی داڑھی نہیں ہے، لیکن وہ کرتہ پہنا ہوا ہے ، اور ایک دوسرے شخص کی داڑھی ہے، لیکن وہ پینٹ شرٹ پہنا ہوا ہے ، تو ان دونوں میں سے کس کو نماز کی امامت کے لیے منتخب کیا جائے جبکہ مقتدیوں میں سے کسی کی بھی داڑھی نہیں ہے؟
مذکور داڑھی والے شخص کا لباس ڈھیلا ڈھالا اور کشادہ ہو، چست اور اتنا تنگ نہ ہو کہ اعضاء کی ساخت نمایاں نظر آئے ، اور یہ مسائل نماز سے ضرور ی واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ تلاوت بھی صحیح کر سکتا ہو ، تو اُسے امام منتخب کرنا چاہیئے، ورنہ کسی کی بھی اقتداء میں نماز پڑھ سکتےہیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر اهـ (410/1)
وفی الدر المختار: وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح اھ(2/ 418) واللہ اعلم