امامت و جماعت

صرف عورتوں کی نماز با جماعت کا حکم- عورتوں کےلۓ مختص جگہوں والی مساجد میں ، ان کی نماز باجماعت میں شرکت- بچہ اٹھاکر نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
13806
| تاریخ :
2011-09-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

صرف عورتوں کی نماز با جماعت کا حکم- عورتوں کےلۓ مختص جگہوں والی مساجد میں ، ان کی نماز باجماعت میں شرکت- بچہ اٹھاکر نماز پڑھنا

میں مکہ میں رہتی ہوں الحمد للہ ، جیسا کہ عرب خواتین جماعت کا اہتمام کر تی ہیں اور یہاں کی خواتین جن کے چھوٹے بچے ہیں ، وہ دورانِ نماز انہیں گود میں اُٹھاتی ہیں ، میری بھی چھوٹی بچی ہے ، کیا با جماعت نماز کے دوران میں اسے اُٹھا سکتی ہوں ؟ یا دورانِ نماز بچی کو یہاں وہاں جانے سے روکنے سے نماز ہوجائے گی؟ اگر میں مسجد میں ہوتی ہوں تو جماعت چھوڑنے سے گناہ ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولاً تو یہ واضح ہو کہ تنہا عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے ، البتہ اگر وہ حرمین شریفین یا کسی دوسری مسجد میں بوقتِ نماز چلی جائے اور وہاں عورتوں کے لۓ ادائیگئیِ نماز کا مخصوص مقام ہو ، اور وہ پردۂ شرعی اور اتصالِ صفوف کا لحاظ رکھتے ہوئے مرد امام کی اقتداء میں نماز با جماعت ادا کرلیں، تو یہ مکروہ بھی نہیں ، اور اس سے ان کی نماز بھی ادا ہو جائیگی، تاہم ادائیگئیِ نماز با جماعت کرتے ہوۓ یا انفرادی پڑھتے ہوئے ، ایساعمل بجا لانا کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہی ، عملِ کثیر کہلائےگا جو مفسدِ صلوۃ ہوگا ،اس لۓ دورانِ نماز بچوں کو اٹھانے وغیرہ سے احتراز لازم ہے ، جبکہ معمولی عمل سے بچوں کو ہٹانا وغیرہ عملِ کثیر نہیں اور نہ ہی اس سے نماز متاثر ہوتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها و لا لإصلاحها (1/ 624)۔
و فیه أیضاً : (و يكره حضورهن الجماعة) و لو لجمعة و عيد و وعظ (مطلقا) و لو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان اھ(1/ 566)۔
و فی سنن أبي داود : عمرة بنت عبد الرحمن ، أنها أخبرته أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ، قالت : «لو ادرک رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أحدث النساء لمنعهن المسجد كما منعه نساء بني إسرائيل» اھ(1/ 155)۔
و فى سنن أبي داود : عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه و سلم ، قال: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها ، و صلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها» اھ(1/ 156)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
طارق محمود یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13806کی تصدیق کریں
0     962
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات