السلام علیکم! جناب مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا امامِ کعبہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امامِ کعبہ اہلِ حدیث ہے اور اہلِ حدیث کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ، براہِ کرم جواب ارشاد فرمائیں۔
ائمۂ حرمین شریفین غیر مقلد ( جن کو ہمارے دیار میں اہل حدیث کہا جاتا ہے) نہیں ، بلکہ ان کی اکثریت امام احمد بن حنبلؒ کے پیروکاروں کی ہے ، بلا وجہِ شرعی ان کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنا اور حرم شریف کی جماعت کا ترک کرنا ، بڑی سخت محرومی و بدقسمتی اور گناہ کی بات ہے۔
في مرقاة المفاتيح : صلاة بالمسجد الحرام تعدل مائة ألف صلاة . كما ورد : كل صلاة فيه جماعة بألفي ألف صلاة و سبعمائة ألف صلاة اھ(2/ 587)۔
و فى حاشية ابن عابدين : و الذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض ، لأن كثيرا من الصحابة و التابعین كانوا أئمة مجتهدين و هم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم اھ (1/ 564)۔