غصے کی حالت میں , میں نے اپنی ماں کو دو بار یہ بات بتائی کہ" اگر آپ میری بیوی سے خوش نہیں ہو تو میں اس کو طلاق دونگا"برائے مہربانی مجھے بتلا ئیے کہ کیا اس جیسے الفاظ سے میرے نکاح پر کچھ اثر پڑا؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ محض دھمکی کے ہیں ان جیسے الفاظ سے عقدِ نکاح پر تو کچھ اثر نہیں پڑتا، البتہ اس طرح کے الفاظ بلا ضرورت زبان پر لانا ، نا پسندیدہ عمل ہے اسلئے سائل کو چاہئیے کہ آئندہ اس قسم کے الفاظ بھی دہرانے سے احتراز کرے۔
وفي الهندية:طلاق میکنم طلاق میکنم و کرر ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك وفي المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقاً إلا إذا غلب إستعماله للحال فيكون طلاقاً اھ (1/384)۔
وفي تنقيح الحامد ية : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب استعمالہ فی الحال اھ (۳۸) ۔