امامت و جماعت

مسجدِ شرعی سے ہٹ کر نماز باجماعت پڑھنے کی شرعی حیثیت -غیر مسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
14181
| تاریخ :
2011-12-21
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجدِ شرعی سے ہٹ کر نماز باجماعت پڑھنے کی شرعی حیثیت -غیر مسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام کہ ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد ہے اور اب ہمارے گھر کے پاس ایک پلازہ بن رہا ہے ، جس کی بیسمنٹ میں مالک نے ایک ’’جائے نماز‘‘ بنائی ہے ، جو کہ ہر سہولت سے آراستہ ہے ، اور اس میں ایک امام صاحب باقاعدگی سے نماز بھی پڑھاتے ہیں اور صبح کی نماز کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر درس بھی دیتے ہیں ، چونکہ ’’جائے نماز‘‘ میں محلے کی مسجد کی نسبت سہولتیں ہیں، اس لۓ اب ہمارے محلے کے بہت سے لوگوں نے مسجد کو چھوڑ کر جائے نماز کا مستقل رخ اختیار کر لیا ہے۔
۱۔ جولوگ جائے نماز میں مستقل نمازیں پڑھتے ہیں ان کی نمازیں اداء ہو رہی ہےیا نہیں؟
۲۔ کیا اس ’’جائے نماز‘‘میں نماز پڑھنے والوں کو بھی مسجد میں نماز پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا ؟
۳۔ اگر کسی جگہ اہلِ سنت و الجماعت کی کوئی مسجد نہ ہو ، کیا ہم بریلوی یا غیر مقلدین امام کے پیچھے نماز ادا کرسکتے ہیں ؟ اگر نہیں کر سکتے تو کیا کریں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔۲ : جائے نماز میں نماز پڑھنے والوں کی نماز بھی اگر چہ اداء ہوجاتی ہے، مگر انہیں مسجد کا ثواب نہیں ملے گا ، بلکہ باجماعت پڑھنے کی وجہ سے صرف جماعت کا ثواب ملے گا۔
۳ : جبکہ بریلوی اور غیر مقلد امام کے پیچھے نماز پڑھنا کراہتِ تحریمی کے ساتھ جائز ہے ،بامرِمجبوری ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا ، اکیلے پڑھنے سے بہتر ہے ، بشرطیکہ بریلوی امام مشرکانہ عقائد کا حامل نہ ہو ، اور غیر مقلد امام معتدل المزاج ہو اور تقلید کو شرک قرار دینے اور اسلاف کی شان میں لب کشائی سے احتراز کرنے کے ساتھ ساتھ کامل طہارت کے ساتھ ہو ، اور مواضعِ خلاف میں مقتدیوں کا بھی لحاظ رکھتا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : و في آخر شرح المنية بعد نقله ما مر عن الأجناس : ثم الأقدم أفضل لسبقه حكما ، إلا إذا كان الحادث أقرب إلى بيته فإنه أفضل حينئذ لسبقه حقيقة و حكما ، كذا في الواقعات . و ذكر في الخانية و منية المفتي و غيرهما أن الأقدم أفضل اھ (1/ 659)۔
و في مشكاة المصابيح : و عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «صلاة الرجل في بيته بصلاة و صلاته في مسجد القبائل بخمس و عشرين صلاة و صلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخسمائة صلاة و صلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة و صلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة و صلاته في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة» . رواه ابن ماجه اھ (1/ 234)۔
و في الفتاوى الهندية : قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى و بدعة و لا تجوز خلف الرافضي و الجهمي و القدري و المشبهة و من يقول بخلق القرآن و حاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة و إلا فلا . هكذا في التبيين و الخلاصة و هو الصحيح . اھ (1/ 84)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 14181کی تصدیق کریں
0     310
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات