امامت و جماعت

امام لاعلمی میں اگر قعدہ اولی میں درود اور دعا بھی پڑھے تو ان نماز کا حکم

فتوی نمبر :
14510
| تاریخ :
2012-01-25
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام لاعلمی میں اگر قعدہ اولی میں درود اور دعا بھی پڑھے تو ان نماز کا حکم

میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں نماز کے لیے کوئی امام مقرر نہیں ہے، بس خود ہی جماعت کروا لیتے ہیں، کیونکہ مختلف لوگ جماعت کر وا دیتے ہیں، ایک صاحب جو اکثر جماعت کرواتے تھے، وہ دیکھنے میں تو مکمل شرعی نظر آتے ہیں، مگر ان کو یہ نہیں پتا تھا کہ چار رکعتی نماز فرض میں دو رکعت میں ’’التحیات‘‘ کے بعد دردود شریف نہیں پڑھتے، وہ پورا درود شریف دعا سمیت پڑھ کر کھڑے ہوتے تھے، ہمیں کسی طرح پتا چلا کہ وہ اس طرح نماز پڑھاتے تھے تو جو ہم نے ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ اور اگر دوبارہ پڑھنی ہوں تو کتنی؟ کیونکہ ہمیں تو اندازہ نہیں ہے اور جو دوسرے مختلف لوگ جماعت کرواتے ہیں، کیا اُن کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخصِ مذکور کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں بکراہت درست ادا ہو چکی ہیں، ان کا اعادہ واجب نہیں، تاہم امامت کے معاملہ میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے، کمپنی والوں کو چاہیے کہ باقاعدہ ایسے امام کا انتظام کریں جو مسائلِ نماز سے واقف ہو، البتہ کسی باشرع داڑھی والے ایسے مسلمان جو نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے تو تب بھی نماز درست ادا ہو جائےگی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله سقط عنه) (إلی قوله) بقي إذا سقط السجود فهل يلزمه الإعادة لكون ما أداه أولا وقع ناقصا بلا جابر. والذي ينبغي أنه إن سقط بصنعه كحدث عمد مثلا يلزمه وإلا فلا تأمل. (2/ 79)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: مذهب الحنفية: الأحق بالإمامة: الأعلم بأحكام الصلاة فقط اھ (2/ 1201)
وفی الفتاوى الهندية: الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة. هكذا في المضمرات اھ (1/ 83)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بہادر علی سرور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 14510کی تصدیق کریں
0     629
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات