مفتی صاحب السلام علیکم! (1) :پاکستان میں بہت سارے لوگ عیسائیوں کو مردہ پرندے فروخت کرتے ہیں، بعض لوگ مردہ پرندوں کے پَر فروخت کرتے ہیں، اور بعض ان کی انگلیاں فروخت کرتے ہیں، بہت سارے لوگ ان پروں کو جانوروں کی خوراک کے اجزاء میں استعمال کرتے ہیں، کیا یہ سب معاملات جائز ہے ؟
(2): بعض لوگ مردہ پرندوں کو جلاتے ہیں ،جبکہ بعض لوگ ان کو دفن کرتے ہیں، کیا یہ جلانا جائز ہے ؟ ان میں دفن کرنا بہتر ہے یا جلانا ؟ میں پولڑی کا کاروبار کرتا ہوں یہ تمام اپشن مہیا ہے۔ میں شکر گزار ہونگا کہ اگر آپ نے ان سوالات کے جوابات شریعت کی روشنی میں جلد دیے ،تاکہ میں کسی گناہ میں نہ پڑوں۔
مردار پرندوں کی خرید و فروخت جائز نہیں ،خواہ کسی مسلمان کے ساتھ ہو ،یا غیر مسلم کے ساتھ، البتہ ایسے پرندوں کے ’’پر‘‘ ناخن فروخت کرنے اور ان کو جانوروں کی خوراک میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ مردہ پرندوں کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے جلانا اور دفن کرنا ہر دو امور شرعاً جائز ہیں۔
ففي الدر المختار: (بطل بيع ما ليس بمال) والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع درر، (إلى قوله) (والميتة) سوى سمك وجراد اھ (5/ 50)۔
وفیھا أیضاً: (وشعر الميتة) غير الخنزير على المذهب (وعظمها وعصبها) على المشهور (وحافرها وقرنها) الخالية عن الدسومة وكذا كل ما لا تحله الحياة (ودم سمك طاهر) اھ (1/ 206)۔
وفي حاشية ابن عابدين: أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع اھ (5/ 51) والله أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1