میں نے ایک حدیث مبار ک سیکھی ہے جو شخص قرآن کی تلاوت کر تاہے، اس کو ایک لفظ پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور "ا،ل، م" تین لفظ ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اللہ سے دعا کر سکتا ہوں کہ اسکا ثواب میرے ماں باپ کو بھی ملے ، حدیث مبارک کا حوالہ بھی جواب کے ساتھ دیں۔(جزاک اللہ)
نفلی عبادت ، تلاوت کلام پاک اور نیک اعمال کا ثواب والدین اور اعزہ واقرباء یا جس کو بھی چاہیں، خواہ زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں، سب کو بخشا جا سکتا ہے، جبکہ احادیث مبارکہ میں اپنے والدین کیلیے دعاءمغفرت اور ایصال ثواب کاحکم دیا گیا ہے، اس لیے سائل کو بھی اس کا اہتمام چاہیے ۔
ففی الدر المختار: الأصل أن كل من أتى بعبادة ما،له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة. (2 / 596)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله بعبادة ما) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة، أو غير ذلك (إلی قوله) الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء. اهـ.( ۲/۲۹۵) والله أعلم بالصواب