ایصال ثواب

انتقال کے تیسرے دن ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کرنااور کھانا کھلانا

فتوی نمبر :
60295
| تاریخ :
2021-10-01
عبادات / جنائز / ایصال ثواب

انتقال کے تیسرے دن ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کرنااور کھانا کھلانا

کیافرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
ہمارے علاقے میں اگر کسی کےیہاں فوتگی ہوتی ہے تو انتقال کے تیسرے دن مرنے والے کےحق میں صدقہ اورخیرات کی نیت سے کھانا تیار کیا جا تا ہے ، اور قرآن پاک پڑھنے والوں کو بُلوا کر قرآن خوانی کرائی جاتی ہے ، نیز اس موقع پر قرآن پڑھنے والوں کے علاوہ محلہ کے بھی بہت سارے لوگ جمع ہو جاتے ہیں ، اورقرآن خوانی کے اختتام پر تیار شدہ کھانا موقع پر موجود تمام افراد کو کھلا یاجاتاہے ، جن میں اہلِ میت خود بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ محلہ کے بچے ، فقراء اوراغنیاء ہر قسم کے لوگ شامل ہوتے ہیں ، جبکہ بعض لوگ دسویں اور چالیسویں روز بھی اسی طرح ایصالِ ثواب وغیرہ کا انتظام کر لیتے ہیں ، نیز مذکور طریقے پر ایصالِ ثواب نہ کرنے والوں کو ملامت کا نشانہ بنایا جاتاہے ، اس لیے غریب سے غریب تر شخص بھی اس کا انتظا م ضرور کر لیتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکور طریقہ پر صدقہ اورخیرات کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگرنہیں! تو اس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟
ایصالِ ثواب کے کھانے کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ کیا اہلِ میت کیلیے یہ جائز ہے کہ اس کھانے میں سے خود بھی کھائیں اور اپنے دولت مند دوست احباب کو بھی کھلائیں؟ تو کیا اس صورت میں میت کو اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
ایصالِ ثواب کیلیے قرآن خونی کروانے کی شرعاً کیا حیثیت ہے ؟
ختم کے اختتام پر قرآن پڑھنے والوں کو خیرات کا کھانا کھلانااور قرآن پڑھنے والوں کیلیے اس سے کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا قرآن پڑھنے والوں کیلیے الگ سے کھانا پکا کر دینا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ قرآن خوانی کرنے والوں کو کھانا نہ کھلا نا ہمارے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱ ، ۲۔ واضح ہوکہ کسی دن اور وقت کی تعیین کے بغیر میت کے عاقل و بالغ عزیز و اقارب کی طرف سے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی مرضی و خوشی سے میت کےایصالِ ثواب کیلیے کھانا تیار کر کے لوگوں کو کھلانا تو جائز اور درست ہے ، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب میت تک پہنچائے ، اور اس طرح تیار کیا گیا کھانا اہلِ خانہ، فقراء ، مساکین اور مالدارسب لوگوں کیلیے کھانا جائز اور درست ہے ، لیکن اس کے لیے باقاعدہ مخصوص ایام کی تعیین کرنا ، یا ایصالِ ثواب کیلیے دعوت کے اہتمام کو ضروری اور لازم سمجھنا اور دعوت نہ کرنے والوں کو تنقید و ملامت کا نشانہ بنانا ، یا تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر یا ورثاء میں سے نابالغ افراد کی موجود گی میں میت کے ترکہ سے صدقہ و خیرات کرنا ، یا نام و نمود کیلیے دعوت کا اہتمام کرنا ، یہ تمام وہ امور ہیں جو کہ شرعاً ناجائز اور واجب الترک ہیں، لہٰذا ان امور کےساتھ ایصالِ ثواب کیلۓ دعوتوں کا اہتمام کرنا شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی اس پر حصولِ ثواب کی امید کی جاسکتی ہے، اس لیے اس سےاجتناب لازم ہے ۔
۳ ،۴۔ واضح ہو کہ قرآن خوانی اور ختم ، خواہ خیر و برکت کیلیے ہو یا ایصالِ ثواب کیلیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ، لیکن آج کل ایصالِ ثواب کی غرض سے اجتماعی قرآن خوانی کی جو صورت عام معاشرہ میں مروج ہے ، مفاسدِ شرعیہ و تخصیصاتِ غیر ضروریہ و غیر شرعیہ کے التزام کی بنا پر ناجائز اور بہ زمرۂ بدعت ہیں، جن سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر ایصالِ ثواب مقصود ہو تو اس کا جائز اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے ، قرآن پاک کی تلاوت یا دیگر نفلی عبادت انجام دےکر اس کا ثواب میت کو بخش دے ، یا پھر اہلِ میت کھانے پینے کا پروگرام کیے بغیر اپنے قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بلا کر قرآن خوانی یا ختم کر وائیں اور اس کا ثواب میت کو بخش دیں ، اس لیے کہ ایصال کے واسطے قرآن خوانی پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں ہے، جہاں قرآن خوانی کے بعد قراء کو کھانا کھلانا معروف و مروّج ہو تو یہ بھی ایصالِ ثواب پر اجرت شمار ہوگا ، اس لیے اسطرح کی اجتماعی قرآن خوانی اور اس کے بعد کھانے وغیرہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ محض مہمان نوازی اور اکرام کے طور پر یا پہلے سے انتظام کیے بغیر ، کھانے کا وقت ہونے پر کھانا وغیرہ تیار کرکے قرآن پڑھنے والوں کو بھی کھلانا جائز اور درست ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مجموعة مسائل اللکھنوی : فکم من مباح یصیر بالا لتزام من غیر لزوم و التخصیص من غیر مخصص (الی قوله) مکروھاً کماصرح به علی القاری فی شرح المشکوة ، و الحصفکی فی الدر المختار اھ (ج3ص490)۔
و فی بدائع الصنائع : و أما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني لأنها تجري مجرى الهبة اھ(2/ 47)۔
و في رد المحتار : و قال أيضا : و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور ، و هي بدعة مستقبحة (الي قوله) و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم ، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره . و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج . و قال : و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى . اهـ . و بحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه - عليه الصلاة والسلام - دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء و جيء بالطعام» . أقول : و فيه نظر ، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص ، بخلاف ما في حديث جرير . على أنه بحث في المنقول في مذهبنا و مذهب غيرنا كالشافعية و الحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة ، و لا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب ، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع و القناديل التي توجد في الأفراح ، و کدق الطبول ، و الغناء بالأصوات الحسان ، و اجتماع النساء و المردان، و أخذ الأجرة على الذكر و قراءة القرآن ، و غير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان ، و ما كان كذلك فلا شك في حرمته و بطلان الوصية به ، و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم (2/ 240)۔
فی مصنف ابن أبي شيبة : عن عبد الرحمن بن شبل ، قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم- : "اقرءوا القرآن، و لا تأكلوا به ، و لا تستكثروا به ، و لا تجفوا عنه ، و لا تغلوا فيه" اھ(2/ 168)
و فی بدائع الصنائع : فإن من صام أو صلى أو تصدق و جعل ثوابه لغيره من الأموات أو الأحياء جاز و يصل ثوابها إليهم عند أهل السنة و الجماعة و قد صح عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «أنه ضحى بكبشين أملحين : أحدهما : عن نفسه ، و الآخر : عن أمته ممن آمن بوحدانية الله تعالى و برسالته» - صلى الله عليه و سلم - و روي «أن سعد بن أبي وقاص - رضي الله عنه - سأل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال يا رسول الله : إن أمي كانت تحب الصدقة أفأتصدق عنها؟ فقال النبي : - صلى الله عليه و سلم- تصدق» و عليه عمل المسلمين من لدن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى يومنا هذا من زيارة القبور و قراءة القرآن عليها و التكفين و الصدقات و الصوم و الصلاة و جعل ثوابها للأموات اھ(ج2 ص212)۔
و فی رد المحتار : و في شرح اللباب و يقرأ من القرآن ما تيسر له (الی قولہ) ثم يقول : اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم اھ(ج2 ص243)۔
و فی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح : يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى المقبرة في المواسم و اتخاذ الدعوة بقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص اھ(ص: 617 دار الكتب العلمية بيروت)۔
و فی الفتاوی الشامیة : قال تاج الشريعة في شرح الهداية : إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت و لا للقارئ . و قال العيني في شرح الهداية : و يمنع القارئ للدنيا ، و الآخذ و المعطي آثمان . فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز ؛ لأن فيه الأمر بالقراءة و إعطاء الثواب للآمر و القراءة لأجل المال ؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر و لولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا و وسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله و إنا إليه راجعون ، (الی قوله) و نقل العلامة الخلوتي في حاشية المنتهى الحنبلي عن شيخ الإسلام تقي الدين ما نصه : و لا يصح الاستئجار على القراءة و إهدائها إلى الميت ؛ لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك . و قد قال العلماء : إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت ، و إنما يصل إلى الميت العمل الصالح ، و الاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة ، و إنما تنازعوا في الاستئجار على التعليم اھ(ج6 ص56)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60295کی تصدیق کریں
1     4456
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • دفن کے بعد قبر کے سرہانے سورہ بقرہ پڑہنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ایصال ثواب 0
  • تدفین کے بعد تلاوت قرآن کریم کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   ایصال ثواب 0
  • خود کشی کرنے والے کیلئے ایصال ثواب کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   ایصال ثواب 0
  • مسلمان کی ایصال ثواب کے لیے شمشان بھومی جانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ایصال ثواب 0
  • مرحوم کے لئے سوا لاکھ کا ختم کرانا

    یونیکوڈ   اسکین   ایصال ثواب 0
  • غسل د ینے سے قبل میت کے پاس بیٹھ کرقرآن کریم کی تلاوت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   ایصال ثواب 0
  • کیا زندہ لوگوں کیلئے بھی ایصال ثواب کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 1
  • انتقال کے تیسرے دن ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کرنااور کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 1
  • قبر کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا -حفاظ کو مستقل تلاوت کے لیے مقرر کرنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • ایصالِ ثواب کے اعمال

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • نفلی عبادات کا ثواب مرحومین کو بخشنے کا حکم

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • مسلمان کا مشرک کے لیے ایصالِ ثواب کرنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • قبر پر ایصال ثواب کرنے والے کو مردے کا دیکھنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • ایصال ثواب کرنے کا کوئی طریقہ مختص کرنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 1
  • مرحومین کے لۓ ایصالِ ثواب کا حکم اور شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • قبرستان جا کر ، ایصالِ ثواب کے لیے سور ت پڑھنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • کیا بیک وقت کسی چیز کا ثواب تمام زندہ و مردہ مسلمانوں کو پہنچایا جا سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • مردے کا قبر میں ، عزیز و اقارب کے آنے کا منتظر رہنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • انتقال کے بعد تین دن تک خیرات کرنا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • ایصالِ ثواب کی نیت سے کھانا کھلانا زیادہ بہتر ہے یا مسجد ومدرسہ میں تعاون کرنا؟

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 1
  • ایصالِ ثواب کے لۓ اجتماعی قرآن خوانی اور اس پر اجرت یا کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • ایصالِ ثواب صرف مردوں کو کیا جا سکتا ہے یا زندہ لوگوں کو بھی؟

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • تدفین کے بعد سورۂ بقرہ کے اول آخر پڑھنے کی شرعی حیثیت-قرآن کریم کی تلاوت کیے بغیر صرف بوسہ لینا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • قبروں پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
  • میت کی مغفرت کے لئےدعا کا طریقہ - قبر میں اتارتے وقت اور مٹی ڈالتے وقت کی دعا

    یونیکوڈ   ایصال ثواب 0
Related Topics متعلقه موضوعات