میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے کسی رشتہ دار کی قبر پر جاکر ایصالِ ثواب ، کچھ پڑھ کر کرتا ہے اور اس کے لیے دعا کرتا ہے تو مردہ اس ایصالِ ثواب اور دعا وغیرہ کرنے والے کو دیکھتا ہے ، سوال یہ ہے کہ واقعی مردہ اس آدمی کو دیکھتا ہے یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر میت کے عزیز و اقارب قبر پر نہ جائیں تو مردہ انتظار کرتا ہے ، کیا یہ صحیح ہے؟
۱،۲۔ انتظار سے متعلق تو کوئی روایت نہیں، البتہ زائر کو دیکھنے اور پہچاننے سے متعلق بعض روایات ملتی ہیں۔
ففی الشامیة : و في شرح اللباب للمنلا على القارئ : ثم من آداب الزيارة ما قالوا ، من أنه يأتي الزائر من قبل رجلي المتوفى لا من قبل رأسه لأنه أتعب لبصر الميت اھ(۲/۲۴۳)۔
و فی مرقاة المصابیح : على أن الصواب أن الميت أهل للخطاب مطلقا لما سبق من حديث ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام اھ (۴/ ۲۵۲)۔