کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ایسے شخص کے بارے میں جس کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنے خاندان میں صرف اکلوتا مسلمان تھا، اس کے ہندو رشتہ داروں نے اسے شمشان بھومی میں جلا دیا ، کیا اب ہم اس شمشان بھومی میں میت کے لیے یسین شریف پڑھنے اور دعا کرنے کے لیے جا سکتے ہیں؟
صورت مذکور میں ایصال ثواب کے لیے شمشان جانا ضروری نہیں، بلکہ وہاں جانا تشبہ بالہنود کی وجہ سے جائز بھی نہیں، اس لیے اپنے مقام پر رہتے ہوئے جس قدر ہو سکے بدنی اور مالی عبادات کا اہتمام کر کے مرحوم کے لیے ایصال ثواب کرنا چاہیے۔
ففي حاشية ابن عابدين: وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة (2/ 243)