السلام علیکم! مفتی صاحب! یہاں فیجی میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد دوبارہ تدفین سے فارغ ہو کر امام صاحبہ دوسری دعا کرتے ہیں اور اسی دُعا سے پہلے لوگ سورہ اخلاص ، فلق اور سورہ ناس بھی پڑھتے ہیں ۔ آپ بتائیں کہ اس طرح کرنا شریعت میں جائز ہے کہ نہیں ؟
تدفین کے بعد دعا کرنا جائز اور خود نبی کریم ﷺ ثابت ہے، جبکہ ایصال ثواب کی نیت سے بغیر کسی التزام کے قرآن کریم کی کسی مخصوص سورہ یا کچھ حصہ پڑھنے میں حرج نہیں ۔
وفي مرقاة المفاتيح: قال النووي في الأذكار: قال محمد بن أحمد المروزي: سمعت أحمد بن حنبل يقول: إذا دخلتم المقابر فاقرءوا بفاتحة الكتاب والمعوذتين، وقل هو الله أحد، واجعلوا ثواب ذلك لأهل المقابر، فإنه يصل إليهم، والمقصود من زيارة القبور للزائر الاعتبار، وللمزور الانتفاع بدعائه اهـ (3/ 1228)