۱۔ فتاویٰ شامیہ میں دیکھا تھا کہ امام کا نماز میں صف کے بالکل درمیانی جگہ کے مقابل میں کھڑا ہونا سنت ہے، آیا سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
۲۔ ہماری مسجد میں ایک معتکف بیٹھنے کی وجہ سے امام کے ایک جانب مقتدی زیادہ اور دوسری جانب کم ہوتے ہیں، کیا اس کی وجہ سے کچھ گنجائش ہے یا امام کو وسطِ صف میں ہونا یا معتکف کو نماز کے لیے اُٹھانا ضروری ہے؟
امام کا وسط صف میں کھڑا ہونا کہ دونوں جانب مقتدی حضرات برابر ہوں سنتِ مؤکدہ ہے، بلاوجہ کسی ایک جانب کو کھڑے ہونا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ معتکفین کے ساز وسامان کی وجہ سے صف کی کسی ایک جانب میں کمی کرنا بوجہ مجبوری اور چند دنوں کی بات ہے اس بناء پر اگرچہ کراہت بھی لازم نہیں آئےگی، تاہم اگر بوقتِ نماز معتکفین کے بستر وغیرہ دائیں بائیں دیواروں کے ساتھ رکھ دیئے جائیں یا ان کا انتظام دونوں جانب برابر ہوں تو بہر دو صورت کراہت سے خالی اور بہتر ہیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ويقف وسطا) قال في المعراج: وفي مبسوط بكر: السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره اھ (1/ 568)