میں پانچ وقت نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، کبھی فجر رہ جاتی ہے، میرے ذہن میں مختلف قسم کے شرکی خیالات ہیں جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں ۔میں بہت پریشان ہو ں کہ یہ خیالات میں خود پیدا تو نہیں کر رہا ،کبھی ایسا لگتاہے کہ یہ خود بخود پیدا ہوتے ہیں ،میں اپنے آپ کو اندر سے خالی اور پریشان پاتا ہوں، میں جب اللہ سے مانگتاہوں تو اللہ کے عالی شان عظمت اور اس کی قدرت اور اس کے اوصاف کو بھی سوچتا ہوں۔
واضح ہو کہ اس قسم کے وسوسوں اور خیالات سے چھٹکا را حاصل کرنے کیلیے ایک تو پاکی ناپاکی کا لحاظ رکھیں۔دوسرا یہ کہ تیسرے کلمہ کا بکثرت ورد کریں۔ اور تیسرا یہ کہ پنج وقتہ نماز باجماعت کی ادائیگی کا اہتمام کرنے کیساتھ ساتھ بے دین، فاسق و فاجر دوستوں کیساتھ اٹھنا،بیٹھناچھوڑدیں۔نیکوکار ،متقی پریزگار لوگوں کیساتھ تعلقات قائم کرکے ان کی مجلس میں بیٹھا کریں۔ان امور کے اہتمام سے انشاءاللہ یہ خیالات خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔اور اگر اس کے بعد بھی اس قسم کے خیالات آجایا کریں تو یہ پریشانی کی بات نہیں، بلکہ تیسرے کلمہ اورخاص کر’’ لَاحَولَ وَلَاقُوّۃَاِلاَّ بِاللہ ‘‘کے ورد سے انہیں ہٹانے کی کوشش کر دیاکریں۔
کما فی صحيح مسلم: عن أبي هريرة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إن الله عز وجل تجاوز لأمتي عما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تكلم- (1 / 116)
و فی مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد أنه سمع النبي- صلى الله عليه وسلم - يقول : " لا تصاحب إلا مؤمنا ولا يأكل طعامك إلاتقي " . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي - (3 / 87)
وفی حاشية ابن عابدين:وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك- (4 / 247) واللہ أعلم بالصواب!