اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا، پس اپنے والدین کو فون کرو "میں آپکو طلاق دے رہا ہوں" پھر بیوی کی موجودگی میں اپنے والدین سے تین چار دفعہ غصے میں یہ کہا کہ میں نے طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا ہے میں اسکو ویسے بھی طلاق دے رہا ہوں یعنی وہ ارادہ رکھتا ہے ایسی صورت میں یہ طلاق موثر ہو گی یا نہیں ؟ جبکہ وہ صرف اپنا ارادہ ظاہر کر رہا تھا۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق حکمِ شرعی بیان کرنے کا پابند ہے، پس اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ شخصِ مذکور نے اگر واقعۃ ًیہی الفاظ بولے ہوں اور محض دھمکی اور ڈرانے کی غرض سے یا طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کرنے کیلئے بولے ہوں تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،تاہم آئندہ کیلئے یاتو وہ اس قسم کے الفاظ سے احتراز کرے اور اپنا گھر بسانے کی فکر کرے یا پھر اگر باہم ازدواجی حیثیت سے حدود اللہ کو پورا کرتے ہوئے نبھانے کی کوئی صورت نظر نہ آرہی ہو تو بہتر طریقہ سے اور احسان والا معاملہ کرتے ہوئے اسے اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے، تاکہ فریقین اس بدمزگی اور ٹینشن والی زندگی سے نجات پاکر اپنے اپنے مستقبل کا سوچنے میں بھی آزاد ہو سکیں ۔
وفي البحر : فقد أفاد أن ركنه شرعاً اللفظ الدال على ازالته حل المحلية اھ( ۳ ۲۳۵)۔
وفي الدر : وشرعاً ( رفع قيد النكاح في الحال (الی قوله )( أو المال) الى قوله (لفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق اھ (3/227)۔