السلام علیکم! اُمید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کے آپ سب حضرات اللہ کی نعمتوں سے خوش ہونگے،مفتی صاحب! میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں،میرا سوال یہ ہے کہ کوئی بھی غیر مسلم جس نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا یا نقصان پہنچایا اس کے اوپر جادو یا غلط عملیات سے اس غیر مسلم کو نقصان پہنچانا کیا صحیح ہے؟ کیا ایک مسلم کسی مسلم یا غیر مسلم پر جادو یا غلط عملیات سے نقصان پہنچاتا ہے، اسے اسلام میں کیا کہا گیا ہے،اور اس کی سزا کیا ہے؟ کیا ایک مسلم جادو یا غلط عملیات کے ذریعے کسی بھی انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟ اللہ حافظ!
کسی کے خلاف جادو یا سفلی عمل کرنا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے اور اگر اس کام کے کرنے والے کا یقینی طور پر معلوم ہو جائے، تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے ۔
کما في أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بكر: اتفق هؤلاء السلف على وجوب قتل الساحر، ونص بعضهم على كفره واختلف فقهاء الأمصار فی حكمه على ما نذكره; فروى ابن شجاع عن الحسن بن زياد عن أبي حنيفة أنه قال فی الساحر: يقتل إذا علم أنه ساحر ولا يستتاب ولا يقبل قوله: إنی أترك السحر وأتوب منه، فإذا أقر أنه ساحر فقد حل دمه، وإن شهد عليه شاهدان أنه ساحر فوصفوا ذلك بصفة يعلم أنه سحر قتل ولا يستتاب اھ (1 /60)
وفي شرح فقه الاكبر: فلو فعل ما فیه هلاك انسان أو مرضه أو تفريق بينه وبين امرأته وهو غير نكير لشيئ من شرائط الايمان لا يكفر لكنه يكون فاسقاً ساعيا فی الأرض بالفساد فیقتل الساحر والساحرة، لان علة القتل السعى، فی الارض بالفساد (إلی قوله)وقالت طائفة: ان قتل بالسر قُتل اھ (145)