اگر کوئی خطیب یا امامِ مسجد ، مسجد میں لگاتار نماز نہ پڑھائے اور ماہانہ تنخواہ مسلسل لیتا رہے اور اس کی جگہ مؤذن یا پھر کوئی دوسرا مقتدی نماز پڑھائے تو ایسی صورت میں اس کو تنخواہ لینا جائز ہے؟
امام صاحب موصوف اگر بضرورت چھٹی کرے اور اپنی جگہ کسی دوسرے کو مامور کر کے جائے ، جبکہ مؤذن رکھنے کی اغراض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ امام کی عدمِ موجودگی میں اس کی نیابت کے فرائض انجام دےگا ، تو ایسی صورت میں امام موصوف کا تنخواہ لینا بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ امام صاحب کو چاہیئے کہ بلاوجہ چھٹیاں کرنے سے احتراز کرے۔
فی النتف فی الفتاویٰ : فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره و ان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل اھ (ص: ۳۳۸)-
و فی شرح الوقایة : و لمن یطلق له العمل أن یستعمل غیره ، فإن قیده بیده فلا (إلی قوله) و لأجیر المجیئ بعیاله ، إن مات بعضهم و جآء بمن بقی فلہ أجرة بحسابه اھ (۳/ ۲۹۳)-