میرا سوال یہ ہے کہ فجر میں اگر جماعت کھڑی ہو جائے اور ہم نے ۲ سنت نہیں پڑھے ، تو کیا سنت پڑھنا ضروری ہے ؟ یا نماز کے بعد بھی تو پڑھ سکتے ہیں؟ کسی حدیث سے ضرور بتایۓ گا ، اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہری پگڑی (یعنی گرین ٹوپی) والوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں ، اگر مجبوری ہو تو ، اور نہیں ہو تو ؟ میں نے کسی سے پوچھا تھا ، تو انہوں نے بتایا ،مجھے پیر ذوالفقار صاحب نے منع فرمایا ہے نماز پڑھنے سے اُن کی مسجد میں ، اگر بہت ضروری ہو تو پھر پڑھ سکتے ہیں ، تو براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
فجر کی سنتوں کے زیادہ مؤکد ہونے کی وجہ سے صحابہ و تابعین کا یہ طرزِ عمل رہا ہے کہ جماعت کھڑی ہونے کے وقت بھی ان حضرات نے اس کا اہتمام فرمایا جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں حضرت ابو الدرداءؓ ، حضرت ابن عباسؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے عمل سے یہی ثابت ہے کہ جماعتِ فجر کھڑی ہونے کے باوجود ، ان حضرات نے مسجد کے کونے میں اور ایک طرف ہو کر ، پہلے سنت ادا فرمائی اور پھر جماعت میں شریک ہوئے اور فقہاءِ کرام کا بھی یہی مسلک ہے۔
جبکہ ہری پگڑی والا امام اگر محض بدعات کا مرتکب ہو ، تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ، اور بامرِ مجبوری اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب بھی ملےگا۔
فی مسند أحمد : عن أبي هريرة ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: «لا تدعوا ركعتي الفجر، و إن طردتكم الخيل» اھ (15/ 147)۔
و فی شرح معاني الآثار : عن أبي الدرداء «أنه كان يدخل المسجد و الناس صفوف في صلاة الفجر , فيصلي الركعتين في ناحية المسجد , ثم يدخل مع القوم في الصلاة» اھ (1/ 375)۔
و فی مصنف ابن أبي شيبة : عن حارثة بن مضرب ، «أن ابن مسعود ، وأبا موسى ، خرجا من عند سعيد بن العاصي فأقيمت الصلاة فركع ابن مسعود ركعتين ثم دخل مع القوم في الصلاة ، و أما أبو موسى فدخل في الصف» اھ (2/ 57)۔
و فی شرح معاني الآثار : عن أبي عثمان الأنصاري ، قال: «جاء عبد الله بن عباس و الإمام في صلاة الغداة , و لم يكن صلى الركعتين فصلى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما الركعتين خلف الإمام , ثم دخل معهم» (1/ 375)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله آكدها سنة الفجر) لما في الصحيحين عن عائشة - رضي الله عنها - «لم يكن النبي - صلى الله عليه و سلم - على شيء من النوافل أشد تعاهدا منه على ركعتي الفجر» و في صحیحِ مسلم «ركعتا الفجر خير من الدنيا و ما فيها» و في سننِ أبي داود «لا تدعوا ركعتي الفجر و لو طردتكم الخيل» بحر . (2/ 14)۔
و في الدر المختار : (و يكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قوله) (و مبتدع) أي صاحب بدعة و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة و كل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) اھ (1/ 559)۔
و في حاشية ابن عابدين : (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد ، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع اھ (1/ 562)۔
و فی البدائع : و ذکر فی المنقی روایة عن أبی حنیفة رحمه اللہ أنه کان لا یری الصلاة خلف المبتدع ، و الصحیح أنه إن کان هوی یکفره لا تجوز و إن کان لا یکفره تجوز مع الکراهة اھ (۱/ ۱۵۷)۔
و فی البحر الرائق : و فی الفتاوی لو صلی خلف فاسق ، أو مبتدع ینال فضل الجماعة لکن لا ینال خلف تقی ورع (إلی قوله) و کره امامة العبد الأعرابی و الفاسق و المبتدع و الأعمی و ولد الزنا اھ (۱/ ۳۴۸)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي . كذا في الخلاصة . اھ (1/ 84)۔