مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو 2 سال ہو گئے ہیں ایک بیٹا بھی ہے بیوی کے ساتھ حالات ٹھیک نہ ہونے سے نوبت طلاق تک آ گئی ہے، میرے گھر والوں نے میری بیوی کو شادی پہ زیور گفٹ کیا تھا جو وہ مانگ رہی ہے ۔ کیا طلاق دینے کی صورت میں وہ اس زیور کی حقدار ہوگی۔ اور مجھے کتنی عرصے تک بیٹے کا خرچہ دینا پڑیگا ؟
جو زیور سائل کے گھر والوں نے اس کی بیوی کو بطور ھبہ (گفٹ) دیا تھا وہ اس کی ملکیت ہے ، طلاق کی صورت میں اس کا مانگنا درست نہیں جبکہ بچے کی سات سال عمر ہونے تک وہ اپنی ماں کی پرورش میں رہے گا اور اس دوران اس پر آنے والے اخراجات سائل کے ذمہ ہونگے۔
ففي الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء. (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) اھ (5/ 688)
و في الهداية شرح البداية: وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد (الى قوله) والنفقة على الاب على ما تذكر ( الى قوله) والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده و في الجامع الصغير حتى يستغني فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده (الى قوله) والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب اھ (2/ 38) واللہ اعلم بالصواب