اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو لڑائی جھگڑے کے دوران ایک بار یہ بول دے کہ "میری طرف سے تم فارغ ہو ؟ تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟
عند القرینہ تم فارغ ہو" کے الفاظ طلاق بائن صریح کیلئے مستعمل ہیں ، اسلئے ان الفاظ کے کہنے سے شرعاً بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جبکہ لڑائی جھگڑے کے وقت اس کا استعمال قرینہ حالیہ ہے، لہذا شخص مذکور کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے ۔
في الهندية:لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال كذا في الجوهرة اھ (1/374)۔ واللہ اعلم بالصواب