مفتی صاحب میرا آپ سے یہ سوال ہیکہ میری اپنی بیوی سے لڑائی ہوگئی میں نے اسے کہا کہ ’’اگر تم نے گھر کی دہلیز سے قدم باہر نکالا تو تم سمجھناطلاق‘‘ مگر اسے غصے میں کچھ نہیں سناسمجھااوروہ اپنے گھر چلی گئی۔ میں اسکے گھر گیا اور اسکو واپس لے آیا ۔ اسلام کی روسے کیا حکم ہے ؟ رجوع کسی طرح ہوگا ؟ اور کتنی طلاقیں ہوگئی ہیں ؟
سوال میں مذکور الفاظ انشاء طلاق نہیں ہیں اسلئے شرط کے خلاف کرنے کے باوجود سائل کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی مگر آئندہ کیلئے اس قسم کے الفاظ سے احتراز کرنا چاہیے ۔
کمافی الھندیة: امرأة قالت لزوجها: " مرا طلاق ده " فقال الزوج: " داده كيرو كرده كير " أو قال " داده باد وكرده بادان نوى " يقع ويكون رجعيا وإن لم ينو لا يقع ولو قال: داده است أو كرده است يقع نوى أو لم ينو ولا يصدق في ترك النية قضاء ولو قال: داده إنكار أو كرده إنكار لا يقع وإن نوى اھ(1/234)