کچھ دن پہلے غصہ کی حالت میں ، میں نے اپنے بیوی جس کی رخصتی نہیں ہوئی اُسے فون پر تین طلاق دے دیئےاور جملے کچھ یوں تھے”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں “اور یہ الفاظ تین بار دہرائے ، بعد میں بہت افسوس ہوا کہ شیطان ملعون کے چکرمیں آگیا ، بہرحال ہم نے گھر والوں کو نہیں بتایا، مہربانی کرے ہماری رہنمائی کرے کہ ہم دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائل کے پہلے جملے” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“سے اُسکی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر ان کے درمیان رشتہ زوجیت ختم ہوگیا ، البتہ سائل اور اسکی بیوی اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں، تودو گواہوں کی موجودگی میں، نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ نکاح کر سکتے ہیں ۔
کمافی الھندیة: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية اھ(1 /373)