میرے شوہر نے مجھے نا سمجھی میں طلاق دے دی ہے۔ ہم نے طلاق نامہ پر وکیل کے سامنے دستخط بھی کیے ہیں ۔ 5 جولائی کو ہم نے یہ دعوی دائر کیا کہ میرے شوہر نے دل سے طلاق نہیں دی بلکہ صرف دستخط کیے ہیں۔ جناب مجھے پریشانی ہے کہ طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ میرے پاس طلاق نامہ بھی موجود ہے جس میں ہم دونوں نے وکیل کے سامنےدستخط کیے تھے مگر اُس نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے ۔
وقوع طلاق کیلئے زبان سے الفاظِ طلاق بولنا یا نیت کرنا ضروری نہیں، بلکہ بلانیت بھی الفاظ طلاق لکھ کر دینے یا لکھے ہوئے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا اگر طلاق نامہ میں تین طلاقوں کا ذکر ہواور سائلہ کے شوہر نے اس پر دستخط کر دیئے ہوں تو سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ شادی کرنا چا ہے تو کر سکتی ہے ۔
کمافی الدرالمختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقااھ(3/246)
وفی ردالمحتار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة(الی قولہ) ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(3/246)
وفیہ ایضاً: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه(3/377)