میرے ایک دوست نے جو سعودی عرب میں رہتا ہے , اپنی بیوی کو sms پر ایک دفعہ بولا " جاؤ طلاق" بس ,کیا طلاق ہوگئی ؟ اور اگر ہو گئی تو اب اس کو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا ؟ تفصیل سے جواب دیں ۔
جب سائل کے دوست نے ایس ایم ایس پر ایک دفعہ لکھا” جاؤ طلاق “ تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے اور اگر عدت ختم ہوگئی ہو تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ عقدِ نکاح بھی کیا جا سکتا ہے , مگر آئندہ کیلئے اسے دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، لہذا اسے چاہئیے کہ آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لے ۔
کمافی الفقه الاسلامی وأدلته: أما الكتابة المستبينة فهي نوعان: كتابة مرسومة: وهي التي تكتب مصدَّرة ومعنونة باسم الزوجة وتوجه إليها كالرسائل المعهودة، كأن يكتب الرجل إلى زوجته قائلاً: إلى زوجتي فلانة، أما بعد فأنت طالق، وحكمها: حكم الصريح إذا كان اللفظ صريحاً، فيقع الطلاق ولو من غير نية اھ(9/6902)-