السلام علیکم! مولانا صاحب میرا سوال یہ ہے کہ جس کو ذہن اور دل تسلیم نہ کرے، کیا اس امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟ اسلام میں غیبت اور بغض ممنوع ہے اور ہمارے امام میں یہ دونوں چیزیں موجود ہیں، اور ان کی گفتگو سے بالکل نہیں لگتا کہ وہ امام ہیں، اس لۓ دل تسلیم نہیں کرتا انہیں، براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی بجائے دوسرے خصوصاً اپنے امام میں عیوب تلاش کرنا ایک گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر سائل یہ لکھ دے کہ امام کن لوگوں کی غیبت کرتا ہے اور کن سے بغض رکھتا ہے تو اس کی تفصیل دیکھ کر حکمِ شرعی پر غور کیا سکتا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ لَا تَجَسَّسُوا وَ لَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ﴾ (الحجرات: 12)۔