السلام علیکم! میں عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہو ا ,جماعت کھڑی ہوئی تھی اور امام صاحب کی تلاوت کی آواز میرے کانوں میں آرہی تھی، میں جماعت میں شامل ہونے کی لئے صف کی طرف بڑھ رہا تھا اس دوران امام صاحب سجدۂ تلاوت میں چلے گئے اور میرے نیت باندھنے سے پہلے سجدہ مکمل کرکے قیام میں واپس آگئے ، ایسی صورت میرے لئے سجدۂ سہو کا کیا حکم سے ہے؟ مجھے یہ اندازا نہیں کہ میں نے سجدہ والی آیت مکمل سنی یا آخری کے چند الفاظ ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل پر اسی وقت سجدۂ تلاوت ادا کرنا لازم تھا، لیکن جب اس نے اس وقت نہیں سجدہ نہ کیا ہو اور نہ ہی آیتِ سجدہ والی رکعت ملی ہو, تو اب ادا کرلے۔
في الهداية : و لو سمعها رجل خارج الصلاة سجدها اھ (1/ 78)-
و فی الدر المختار : (وَ مَنْ سَمِعَہَا مِنْ إمَامٍ) وَ لَوْ بِاقْتِدَائِہِ بِہِ (فَائْتَمَّ بِہِ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ الْإِمَامُ لَہَا سَجَدَ مَعَہُ) وَ لَوْ ائْتَمَّ (بَعْدَہُ لَا) یَسْجُدُ أَصْلًا کَذَا أَطْلَقَ فِی الْکَنْزِ تَبَعًا لِلْأَصْلِ (وَ إِنْ لَمْ یَقْتَدِ بِہِ) أَصْلًا (سَجَدَہَا) وَکَذَا لَوْ اقْتَدَی بِہِ فِی رَکْعَةٍ أُخْرَی عَلَی مَا اخْتَارَہُ الْبَزْدَوِیُّ وَ غَیْرُہُ وَ ہُوَ ظَاہِرُ الْہِدَایَةِ۔ قال ابن عابدین : (قَوْلُہُ لَا یَسْجُدُ أَصْلًا) أَیْ لَا فِی الصَّلَاةِ وَ لَا بَعْدَہَا فَافْہَمْ۔ ( الدر المختار مع رد المحتار : ۱۱۰/۲، ط: دار الفکر، بیروت )-