السلام علیکم مفتی صاحب! میرا بوڑھا ضعیف دادا تھا، اس سے ایک سال کی نماز قضاء ہو گیی ہے ، اس کی فدیہ کتنا ہے؟ براہِ کرم جلدی جواب دیجیے۔اور معذور کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟جو اچھے طریقہ سے کھڑا ہو سکتا ہے۔
اگر مرحوم نے اپنی نمازوں کے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو تو ورثاء کے ذمہ اس کے ایک تہائی (۳/۱)کی حد تک اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے فدیہ ادا کرنا واجب ہے، جبکہ وتر سمیت ہر فرض نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر (پونے دو اور احتیاطاً دو سیر گندم) کے برابر یا اس کی قیمت فقراء و مساکین کو دینا لازم ہے، البتہ اگر مرحوم نےوصیت نہ کی ہو تو وارثوں کے ذمہ فدیہ دیناواجب نہیں، البتہ تمام وارث اگر عاقل بالغ ہوں اور اپنی رضا مندی سے اس کی نمازوں کا فدیہ دیں تو امید ہے کہ عنداللہ قبول ہوگا۔ اور معذور شخص کے نماز پڑھانے سے اگر ادائیگی ارکان میں خلل واقع نہ ہو تو ایسے شخص کی امامت بلا کراہت درست ہے، بشرطیکہ اس میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہوں ۔
ففی الدر المختار: (وقائم بأحدب) وإن بلغ حدبه الركوع على المعتمد اھ(1/ 589)
وفي الفتاوى الهندية: إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله وإن لم يترك مالا يستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى مسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا، كذا في الخلاصة. (1/ 125)