امامت و جماعت

بالغ لڑکے اور لڑکیوں کو ایک جگہ جمع کر کے نماز یں پڑھوانے کا حکم

فتوی نمبر :
22911
| تاریخ :
2014-05-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بالغ لڑکے اور لڑکیوں کو ایک جگہ جمع کر کے نماز یں پڑھوانے کا حکم

میری بیٹی کراچی کے Happy home اسکول میں پڑھتی ہے وہ کلاس پنجم میں ہے، کلاس پنجم سے کلاس دہم تک لڑکے اور لڑکیاں ظہر کی نماز ایک ساتھ پڑھتے ہیں، لڑکیاں ، لڑکوں کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں، اسکول انتظامیہ اس طرح نماز کے لیے تیاری کراتی ہے اور اس پر نمبر بھی دیتی ہے۔ کیا اسلام میں اس طرح لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسکول انتظامیہ کا بچے اور بچیوں کو نماز کی عادت ڈالنے کے لیے ان سے نمازیں پڑھوانا اور امتحان میں اس کے اضافی نمبر رکھنا ایک مستحسن اقدام ہے، مگر بالغ لڑکے اور لڑکیوں کو ایک جگہ جمع رکھنے میں دیگر خرابیوں کا اندیشہ ہے، اس لیے اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ بالغ اور قریب البلوغ لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم اور نماز علیحدہ علیحدہ جگہیں منتخب کرنے کی کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين وفرقوا بينهم في المضاجع» اھ (1/ 181)
وفیها أیضاً: وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان» . رواه الترمذي (2/ 933)
وفی البزازیة علی هامش الهندیة: ولا یأذن بالخروج إلیٰ المجلس الذی یجتمع فیه الرجال والنساء وفیه من المنکرات کالتصدیة ورفع الأصوات المختلفة واللعب من المتکلم اھ (۴/ ۱۵۷)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسداللہ کرخی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22911کی تصدیق کریں
0     776
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات