السلام علیکم! میں بینک سے قسطوں پر ایک گاڑی لینا چاہتا ہوں ، اس کی اصلی قیمت 94000 سعودی ریال ہے۔ مجھے اختیار دیتے ہیں کہ نقداً 25000 ادا کر کے ماہانہ 3500 ادا کروں، جس کا مجموعہ 109,000 بن جاتا ہے یعنی اصلی قیمت سے 15000 زیادہ ہے، کیا یہ صحیح ہے ؟ اس معاملہ کو حلال ہونے کے لئے اور کون سی شرائط کا لحاظ رکنا چاہیئے ؟ جس گاڑی کے لئے میں اقساط اداکرتا ہوں اگر اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو کون گاڑی کو صحیح کریگا ؟
گاڑی یا کسی اور چیز کو نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت میں خریدنا اور بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ شرائطِ ذیل کا لحاظ کیا جائے:
(۱) مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہو گا۔ (۲) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔ (۳) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی اقساط ہونگی۔ (۴) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو۔
۲۔ جبکہ قسطوں پر خریدی ہوئی گاڑی کے ایکسڈنٹ وغیرہ کی ذمہ داری خریدار پر ہوگی۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
و في الدر المختار: ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل اھ (4/ 561) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1