کیا ہم جماعت کی شکل میں جس میں دو سے زائد افراد ایک ساتھ ملکر ذکر کرتے ہوں، کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ مولانا اکرم اعوان کے ساتھی کرتے ہیں، جس میں سانس بند کر کے”اللہ ھو“ کہتے ہیں، جس کو ”ذکرِ قلبی“ کہا جاتا ہے۔
ذکرِ جہری اور سری چاہے تنہا ہو یا جماعت کیساتھ، دونوں طرح جائز اور درست ہے،شریعت نے اس کو کسی خاص کیفیت کے ساتھ مقیّد نہیں کیا ہے، البتہ تربیت اور اصلاح کی غرض سے اگر کوئی مصلح اپنے مریدوں کو ذکر کا عادی بنانے کیلئے کسی مخصوص ذکر کے ورد پر مامور کرے، تو ایسا کرنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، مگر ذکر کو اس خاص طریقہ میں منحصر اور محض ایک طرز کو حکمِ شرعی اور مقصود نہ سمجھا جائے۔
کما في تفسير الخازن لباب التأويل فی معإنی التنزيل: واذكر ربك فی نفسك تضرعا وخيفة ودون الجهر من القول بالغدو والآصال ولا تكن من الغافلين (٢٠٥) قوله عز وجل: واذكر ربك فی نفسك الخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم ويدخل فیه غيره من أمته لأنه عام لسائر المكلفین اھ. (2/287)