شوہر بیوی اور بیوی کا بہنوئی: تفصیل : شوہر نے بیوی کو دو الگ الگ اوقات میں ایک طلاق دی ہے ،اور اس کے بعد عدت میں رجوع کر لیا ہے،کافی عرصے بعد بیوی کی ہسپتال میں داخلے کے وقت بہنوئی نے شوہر کو یہ کہہ کر ہسپتال جانے سے روکا کہ آپ کو دیکھ کر اس کی طبیعت اور خراب ہو سکتی ہے ،اور اس کی ایک دو روز بعد بہنوئی نے شوہر کو فون کیا اور ملنا چاہا،تو اُس نے ٹال مٹول کی ،اور وجہ نہیں بتائی،دو گھنٹے بعد بہنوئی ایک مولانا کو لے کر شوہر کے دفتر پہنچ گیا، اور مولانا کو باور کرانے لگا کہ اب ان دونوں کی طلاق ہونی چاہیے ( بیوی ہسپتال میں ہے) مولانا نے شوہر سے تفصیل سننے کے بعد بہنوئی کو روکا کہ وہ اب بھی اس سے پیار کرتی ہے۔ بہنوئی نے پھر دلیلیں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ وہ بھی گویا بیوی بھی یہی چاہتی ہیں یعنی طلاق،اس پر شوہر نے کہا کہ اگر وہ چاہتی ہے تو میں کہہ دیتا ہوں ،اور ایک بار طلاق کہا جب کہ بیوی کو قطعی علم نہیں تھا۔ ان سب باتوں کی نہ بہنوئی نے اُن سے طلاق کے بارے میں پوچھا اور نہ ہی بیوی نے کبھی طلاق کا خیال ظاہر کیا۔
(۱) :بیوی کی غیر موجودگی میں بہنوئی کہے کہ وہ طلاق چاہتی ہے (جھوٹ کی بنیاد پر ) (۲) شوہر کا کہنا کہ اگر وہ چاہتی ہے تو ٹھیک ہے میں نے طلاق دی (ایک بار ) اور بیوی ہرگز نہیں چاہتی تھی تو اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں شوہر کے مذکور معلق جملہ ’’اگر وہ چاہتی ہے تو ٹھیک ہے میں نے طلاق دی‘‘ بولنے کے بعد جب بیوی کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا، اور اسی مجلس میں اس نے یہ کہا ہو کہ میں چاہتی ہوں تو اس سے طلاق ہو چکی ہے، ورنہ نہیں۔
ففي التاتارخانية : إذا قال لامر أته " أنت طالق إن شئت " فذاك إليها مادامت في مجلسها ، فان شاءت في مجلسها وقع الطلاق ( إلى قوله ) إلا أن ها هنا لا تطلق ما لم تطلق نفسها اھ (۲/ ۳۶۳) واللہ اعلم بالصواب