محترم مفتی صاحب! قیامت کی جو علامات حضورﷺ کی احادیث سے ظاہر ہو چکی ہیں وہ بتا دیں۔
واضح ہو کہ قیامت کی علامات دو طرح کی ہیں: علاماتِ صغریٰ اور علاماتِ کبریٰ،علاماتِ صغریٰ سے مراد آپﷺ کی بعثت سے لے کر امام مہدی کے ظہور تک کی علامات ہیں اور علامات کبریٰ امام مہدی کے ظہور سے لے کر نفخہ اولیٰ تک ہوں گی، علاماتِ کبریٰ ابھی تک شروع نہیں ہوئیں، البتہ علامات ِصغریٰ میں سے اکثر ظاہر ہو چکی ہیں، جن میں سے چند علامات یہ ہیں: لوگ امانت ضائع کرنے لگیں گے، سود کھانے لگیں گے، جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے، یعنی جھوٹ ایک فن اور ہنر بن جائےگا، معمولی معمولی باتوں پر خون ریزی کریں گے، اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے، دین بیچ کر دنیا جمع کریں گے، قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے بدسلوکی، انصاف نایاب ہوجائےگا، جھوٹ سچ بن جائے گا، لباس ریشم کا پہنا جائےگا، ظلم عام ہوجائےگا، طلاقوں کی کثرت ہوگی، ناگہانی موت عام ہو جائےگی، یعنی ایسی موت جس کا پہلے سے پتہ نہیں ہوگا، امین خیانت کرنے لگیں گے، شرابیں پی جائیں گی، مالِ غنیمت کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا جائےگا، امانت کو لوٹ کا مال سمجھا جائےگا،زکوٰۃ کو جرمانہ سمجھائےگا، سب سے رذیل آدمی قوم کا لیڈر اور قائد بن جائےگا، آدمی اپنے باپ کی نافرمانی کرےگا، اور اپنی ماں سے بدسلوکی کرے گا، دوست کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا جائے گا، شوہر بیوی کی اطاعت کرےگا، بدکاروں کی آوازیں مسجدوں سے بلند ہوں گی، گانے والی عورتیں رکھی جائیں گی، گانے بجانے اور موسیقی کے آلات کو سنبھال کر رکھا جائےگا، امت کے آخری لوگ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن طعن کریں گے یعنی تنقید کریں گے، اُس وقت سرخ آندھی، زمین میں دھنس جانے، شکلیں بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے جیسے عذابوں کا انتظار کیا جائے۔
ففی صحيح مسلم: قال: فأخبرني عن الساعة، قال: «ما المسئول عنها بأعلم من السائل» قال: فأخبرني عن أمارتها، قال: «أن تلد الأمة ربتها، وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان»، قال: ثم انطلق فلبثت مليا، ثم قال لي: «يا عمر أتدري من السائل؟» قلت: الله ورسوله أعلم، قال: «فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم»(1/ 37)
و فی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «إذا اتخذ الفيء دولا والأمانة مغنما والزكاة مغرما وتعلم لغير الدين وأطاع الرجل امرأته وعق أمه وأدنى صديقه وأقصى أباه وظهرت الأصوات في المساجد وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم أرذلهم وأكرم الرجل مخافة شره [ص:1501] وظهرت القينات والمعازف وشربت الخمور ولعن آخر هذه الأمة أولها فارتقبوا عند ذلك ريحا حمراء وزلزلة وخسفا ومسخا وقذفا وآيات تتابع كنظام قطع سلكه فتتابع» . رواه الترمذي(3/ 1500) والله أعلم بالصواب!