کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے ماں کے نام سے پکارا جائے گا یا اس کے باپ کے نام سے؟
(۲) مرد اور عورت کے زیرِ ناف بال کاٹنے کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ کیا ناف کے برابر سے نیچے تک یا اعضائے تناسل کے اوپر سے چار انچ تک اور نیچے تک؟اور جس شخص کے بال بہت زیادہ گھنے ہوں تو اس کیلئے بھی زیرِ ناف بال کاٹنے کی حد وہی ہے یا اعضاءِ تناسل کے اوپر سے کچھ کم کاٹنے کی گنجائش نکل سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ سے متعلق احادیث میں دونوں کے ناموں کے ساتھ پکارنے کی تصریحات ہیں ، لہٰذا اس سلسلے میں کسی ایک جانب کو راجح قرار دینا اور اس پر سختی سے قائم ہونا جس سے دوسرے کی نفی ہوتی ہو ، شرعاً درست نہیں ، لہٰذا ایسے رویّہ سے احتراز کرنا چاہئے۔
(۲) زیرِ ناف بال صاف کرنا خصائلِ فطرت میں سے ہے اور اس میں اعضاءِ تناسل اور اس کے اردگرد کا حصہ اور حلقۂ دبر داخل ہے ، جس کی حد ناف کے نیچے اکڑوں بیٹھنے کی حالت میں جہاں پہلا بل پڑتا ہے وہاں سے شروع ہوتی ہے اور جس جس مقام کے تلوث کا اندیشہ ہو ، اس سب حصہ کے بالوں کا صاف کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے۔
قال رسول اﷲ ﷺ تدعون یوم القیامۃ باسمائکم و اسماءِ اٰبائکم فاحسنوا اسمائکم۔(مشکوٰۃ: ج۲، ص۴۰۸)۔
و فی بذل المجہود : قد جاء فی بعض الروایات یدعی الناس یوم القیامۃ باسماء امہاتہم فقیل الحکمۃ فیہ ستر حال اولاد الزنا لئلا یفتضحوا و قیل ذالک لرعایۃ حال عیسٰی بن مریم و قیل غیر ذالک فان ثبت بہذہ الرؤایات حمل الاباء علی التغلیب کما فی الابوین لو یحمل أنہم یدعون تارۃ بالاٰباء و اخری بالامہات او بعض بالاباء و البعض بالامہات او فی بعض المواطن بہم و فی البعض بہنَّ۔ (بذل المجہود: ج۵، ص۲۶۴)۔
(۲)و فی رد المحتار : و العانۃ الشعر القریب من فرج الرجل و المرأۃ و مثلہا شعر الدبر بل ہو اولٰی بالازالۃ لئلا یتعلق بہ شیء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر۔( ج۲، ص۴۸۱)۔