احوال قیامت

ظہورِ ’’مہدی‘‘ کا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں

فتوی نمبر :
60517
| تاریخ :
2004-06-07
عقائد / قیامت و آخرت / احوال قیامت

ظہورِ ’’مہدی‘‘ کا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں

کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ایک عزیز کا ایران جانا ہوا ، ایران میں اُن دنوں بہت لائٹنگ کی ہوئی تھی اور جشن کا سماں تھا تو ہمارے عزیز نے اُن سے پوچھا کہ یہ جشن کس چیز کا مناتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ یہ جشن امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا جشن ہے اُن لوگوں کے خیال میں امام مہدی ۱۵ شعبان کو آئیں گے ، اب ہمارے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی بھی شیعوں کے امام ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی کا قرآن اور احادیث میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ، ہمارے سنی مسلمان امام مہدی کی باتیں اہلِ تشیع کی وجہ سے کرتے ہیں ، کیا امام مہدی کا قرآن و حدیث میں کہیں تذکرہ ہے اگر ہے تو وہ حدیث بتا کر ہمیں مطمئن کیجیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے دوست کی مذکور سوچ قطعاً غلط اور خلافِ شریعت ہے، کیونکہ قُربِ قیامت ، ظہورِ ’’مہدی‘‘ کی پیشن گوئی احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے ، ذیل میں ایسی چند احادیثِ مبارکہ بھی درج کی جا رہی ہیں اس لیے سائل کے دوست پر لازم ہے کہ اپنی مذکور سوچ سے مکمل احتراز کرے اور حق بات کو جاننے کے بعد اس کے مطابق عمل بھی کرے۔
۱۔ففی مشکوۃ المصابیح: عن أم سلمۃ قالت: سمعت رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - یقول: ’’المہدی من عترتی من أولاد فاطمۃ‘‘ . رواه أبو داود (3/ 1501)۔
اُم سلمۃ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’مہدی‘‘ میری نسل، یعنی حضرت فاطمۃ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
2 ۔ و فی مشکوۃ المصابیح: عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: «المہدی منی أجلی الجبہۃ و أقنی الأنف یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا یملک سبع سنین» . رواه أبو داود (3/ 1501)۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ مہدی میری نسل سے ہوں گے اور ان کی پیشانی کشادہ ہوگی اور ناک ابھری ہوئی ہوگی اور زمین کو عدل اور انصاف سے ایسے بھر دیں گے، جیسے وہ پہلے ظلم اور ناانصافی سے بھری ہوگی اور وہ سات سال بادشاہت کریں گے۔
۳۔ و فی مشکوۃ المصابیح: عن عبد اللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: «لا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی» رواہ الترمذی و أبو داود. وفی روایۃ لہ: «لو لم یبق من الدنیا إلا یوم لطول اللہ ذلک الیوم حتی یبعث اللہ فیہ رجلا منی - أو من أھل بیتی - یواطیء اسمہ اسمی و اسم أبیہ اسم أبی یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جورا۔(3/ 1501)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میری نسل سے یا فرمایا کہ میرے اہلِ بیت سے ایک ایسے آدمی کو اٹھائیں گے جس کا نام میرے نام کے مشابہ ہوگا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مشابہ ہوگا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60517کی تصدیق کریں
1     1699
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا محرم کی دس تاریخ کو قیامت قائم ہوگی؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • ظہورِ ’’مہدی‘‘ کا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں

    یونیکوڈ   احوال قیامت 1
  • قیامت کے دن اولاد اپنے باپ کے نام سے پکاری جائے گی یا ماں کے؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • قیامت میں لوگ اپنے باپ کے نام سے پکارے جائیں گے یا ماں کے نام سے؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • قیامت کی ابھی تک ظاہر ہونے والی علامات

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • بروز قیامت انسان کو والد کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا یا والدہ کے؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • قیامت کے دن لوگوں کو کس کی نسبت سے پکارا جاۓگا ؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • کیا غیر مسلموں کے نیک اعمال پر انہیں اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • صرف اللہ تعالی ہی کو قیامت کے دن کا علم ہے ؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • مسلمانوں کے فوت شدہ نابالغ بچے قیامت میں والدین کے سفارشی بنیں گے

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
  • بروز قیامت آدمی کو ماں کے نام سے پکارا جائے گا یا باپ سے؟

    یونیکوڈ   احوال قیامت 0
Related Topics متعلقه موضوعات