محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم:
غیرمسلم جو نیک کام کرتے ہیں اس پر انہیں اجر ملے گا یا نہیں؟ اگرچہ سورۃ آل عمران کے اندر فرمایا گیا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں، میرے ایک دوست کو یہ تردد ہے، کہ بہت سے غیر مسلم ایسے ہیں جو انسانیت کی بڑی خدمت کرتے ہیں، تو ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں اجر و ثواب نہیں ملےگا بعید القیاس ہے؟ اور یہ بھی بتائیں کہ ایک غیر مسلم جو اسلام سے ناواقف ہے اور مسلمانوں میں سے کسی نے اس تک دین کی دعوت بھی نہیں پہنچائی، لیکن اس کے باوجود وہ نیک کاموں میں لگا ہوا ہو؟ الحمد للہ ہم تو مسلمان ہیں لیکن العیاذ باللہ اگر ہم کسی غیرمسلم گھرانے میں پیدا ہوتے تو ہم بھی آج غیر مسلم ہوتے، اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں اسلام کی دعوت دینا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن ایک غیر مسلم جو اسلام کی طرف نہیں بلایا گیا، اس کی نیکیوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
اسلام کی دعوت ہر خاص و عام تک اجمالی طور پر پہنج چکی ہے، انکی بے خبری کا ثبوت کسی کے پاس نہیں، جبکہ آج کا دور جو کہ جدید ٹیکنا لوجی کا دور کہلاتا ہے، اس میں کسی کا اسلام سے بے خبر ہونا خلاف عقل ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں، جبکہ کسی نیکی کی صحت اور آخرت میں کار آمد ہونے کے لئے ایمان شرط ہے، اس لئے آخرت میں وہ مستحق اجر ہوگا، جو ایمان کا سرمایہ بھی رکھتا ہو، اس کے بعد واضح ہوکہ وہ کافر لوگ جو بظاہر نیک اعمال کرتے ہیں، ان کا یہ طرز عمل بلاشبہ مستحسن ہے، مگر قانون شریعت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی انکو دنیا میں ہی اس کا بدلہ کسی نہ کسی صورت جیسے صحت اور تندرستی وغیرہ میں عطا فرکرمعاملہ بے باق فرما دیتے ہیں، اس لئے وہ آخرت میں کسی چیز کے حقدار نہیں ہوتے، لہذ اس سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما قال اللہ تعالٰی: أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (105) ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا (106) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا (107) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا (108) سورۃ الکہف)۔
وفی التفسیر المظہری: فَحَبِطَتْ أَعْمالُهُمْ الّتي عملوها لاكتساب الدنيا او الّتي عملوها طمعا في الثواب ولا يثابون عليها لاجل كفرهم فان الايمان شرط لقبول الحسنات كلها فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً (105) يعنى لا يكون لهم عند الله قدر واعتبار الخ (ج6 صـ73 ۔ مکتبۃ الرشیدیۃ ۔ الباکستان)۔
وفی التفسیر لابن کثیر: {فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا} أي: لا نثقل موازينهم؛ لأنها خالية عن الخير. قال البخاري: حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا المغيرة، حدثني أبو الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إنه ليأتي الرجل العظيم السمين يوم القيامة، لا يزن عند الله جناح بعوضة" وقال: "اقرؤوا إن شئتم: {فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا} . (ج5 صـ202 ، ط: دار طیبۃ للنشر و التوزیغ)۔
واللہ اعلم بالصواب