میرے بھائی اور بھابھی کے درمیان سات سال سے بات چیت اور جسمانی تعلق نہیں ہے، کیونکہ لڑائی کے بعد سے ہی ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی ، اب میرا بھائی ملک سے باہر رہتا ہے، اور سال میں ایک دفعہ آنا جانا رہتا ہے ، لیکن بیوی سے ملاقات نہیں کرتے ، کیونکہ میری بھا بھی اپنے والدین کے گھر سات سال سے رہ رہی ہیں، ہم اب چاہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صلح ہو جائے ، ان کے تین بچے بھی ہیں۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان کا نکاح اب تک قائم ہے یا دوبارہ نکاح کی ضرورت پڑے گی؟ اگر دوبارہ نکاح کرنا ہو تو کس طرح کیا جائے ؟ اگر میاں بیوی نہ ملیں تو نکاح کب تک برقرار رہتا ہے ؟
سائل کے بھائی نے اگر اپنی بیوی کو طلاق نہ دی ہو، بلکہ محض آپس کی ناراضگی اور رنجش کی وجہ سے سات سال تک علیحدہ رہے ہوں تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ،بلکہ نکاح بدستور قائم ہے، اور وہ دونوں اب بھی میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ البتہ اتنے عرصے علیحدہ رہنے سے فریقین کے جو حقوق تلف ہوئے،اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے ہیں اس پر ان کو تو بہ کرنا اور ایک دوسرے کو معاف کرنالازم ہے۔
کمافي الدر المختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق (إلى قوله ) وركنه لفظ مخصوص اھ (3/ 227)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية كمطلقة بالتخفيف وكأنت ط ل ق وغيرهما اھ (3/ 227)
و في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي (2/ 724) واللہ اعلم بالصواب