اگر نکاح کے وقت عورت کو طلاق کا حق دیا جاے تو ہ کیسے اپنے اوپر طلاق واقع کرے کیا وہ مرد کی طرح الفاظ طلاق تین مرتبہ استعمال کرے گی مزید بر آں لڑائی کے دوران اگر عورت شوہر سے کہے کہ” مجھے طلاق دیدو، ورنہ میں دیدونگی تمہیں“ پھر اس کاشوہر اسے طلاق نہیں دیتا اور نہ ہی عورت ایسے الفاظ استعمال کرتی ہے، کیا ایسی صورت میں دونوں میں طلاق واقع ہو جائے گی ؟
تفویض طلاق کی صورت میں عورت اس طرح طلاق واقع کرے گی کہ ” میں نے اپنے آپ کو طلاق دی “مگر بوقت نکاح عقد سے پہلے جو تفویض لے لی جاتی ہے اس سےعموماً حق تفویض حاصل نہیں ہوتا اس لیے اگر اس کی تفصیل لکھ دی جائے تو اس پر مکررغور کیا جا سکتا ہے جبکہ سوال میں جوصورت لکھی گئی کہ عورت کہے کہ مجھے طلاق دے دو ورنہ الخ اس صورت میں دونوں میاں بیوی میں سے کوئی طلاق نہ دیدے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔
کما فی ردالمحتار: وإن ابتدأت المرأة فقالت: زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كلما شئت فقال الزوج: قبلت جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها(الی قولہ) والتفويض قبل النكاح فلا يصح.(3/242)
وفی الدرالمختار: (قال لها اختاري أو أمرك بيدك ينوي) تفويض (الطلاق) (أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به) مشافهة أو إخبارا(3/315)
وفی الھدایہ: ومن قال لامرأته طلقي نفسك ولا نية له أو نوى واحدة فقالت طلقت نفسي فهي واحدة رجعية(1/380)