اگر کوئی شخص شادی کی غرض سے رابطہ کرے، شادی کا وعدہ کرے، مگر پھر بالکل لا تعلق ہو جائے، رابطہ بھی نہ کرے، ایسی صورت میں اگر کوئی وظیفہ یا عمل کیا جائے کہ وہ واپس آکر اس سے شادی کرلے، تو کیا اس کی اجازت ہے؟
اگر وظیفہ کسی نا جائز کام یا نا جائز کلمات پر مشتمل نہ ہو اور لڑکی کا رشتہ کسی دوسری جگہ طے نہ ہوا ہو تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔
كمافي رد المحتار: ولا بأس بالمعإذا ت إذا كتب فیها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث فی عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ ۔ (6/ 363)