کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے اپنی بیوی کوحمل کے دوران، ایک دفعہ یہ کہا ہے کہ "میں تمہیں طلاق دوں گا" اور بیوی نے اس بات کو کسی پر ظاہر نہیں کیا، یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو گیا، اور اب بچہ تقریباً سال کا ہو گیا ،اسی طرح عام گفتگو کے دوران یعنی گھریلو معاملات ،تم منٹ کا کام گھنٹہ گھنٹہ کرتی ہو وغیرہ، غصہ ہو کر مارا ،اتنا زور سے مارا ،یہاں تک کہ ہاتھ کا پنکھا ٹوٹ گیا اور عورت کے جسم پرنشان ہو گئے، اور جب مار کر غصے سے کمرے سے نکلا ،اسی دوران ساس باہر آئی، اور سبب پوچھا، تو عورت رو کر بتا رہی تھی ،تو اس کے شوہر نے یہ الفاظ دہرائے دو تو طلاق دے چکا ہوں تیسری بھی دوں گا ،تو اس مسئلہ میں آیا عورت اس شخص کے ساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں؟
اور عام حالات میں اگرچہ طلاق کا لفظ نہیں بولتا ہے ، مگر یہ کہتاتھا کہ چلی جاؤ اپنا فرنیچر لیکر ، چلی جاؤ اپنے والدین کے گھر اور بعض دفعہ غلط الفاظ بھی نکالتا ہے، جیسے (مختلف گالیاں وغیرہ) اور چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ کرتا ہے ۔ اور پردے کے اعتبار سے کوئی ایسی سہولت دی ہے نہ اجازت دیتے ہیں اور ان کے خاندان میں سے کسی سے پردہ نہیں کرتی نہ دیور سے نہ نندوئی سے۔ اس طرح اس کے ایک دوست کے سامنے بھی آئی ہوں، اس وقت بھی ہمارا جھگڑا ہوا تو اس طرح حالات میں عورت کو کیا کرنا چاہئے؟ اور کیا اس طرح عورت کو بے دردی سے مارنے کا حق اسلام دیتا ہے؟ برائے مہربانی فرما کے میری اس مسئلے میں شریعت کے رو سے راہ نمائی فرمائیں۔
نوٹ: یہ الفاظ کہ دو طلاق دے چکا ہوں باقی تیسری بھی دوں گا یہ ۳۰شعبان ۱۴۳۶ھ بمطابق 28 جون 2015 بروز جمعرات کی صبح تھا۔عورت کو حیض 6 رمضان ۱۳۳۶ھ کو بمطابق 24 جون 2015 کو سحری کے بعد آیا ہے ۔ بصورت دیگر اگر بیوی رجوع نہ کرے تو اُس کا حق بنتا ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ کا بیان اگر واقعہ درست اور حقیقت پر مبنی ہو ، اس میں کسی قسم غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیاہو تو شوہر کا اپنی بیوی کو معمولی باتوں پر بے دردی سے مار پیٹ کرنا اور اسے بے پردگی اور غیر محارم کے سامنے آنے پر مجبور کرنا قطعاً نا جائز اور غلط ہے، جس سے احترار لازم ہے، جبکہ بیوی کو بھی چاہیے کہ ارادی طور پر ایسی صورت اختیار نہ کرے، جس سے شوہر کو ایذاء پہنچتی ہو۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سوال میں مذکور خط کشید الفاظ ’’دو طلاق دے چکا ہوں ‘‘کہنے سے دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ وہ عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اگر چہ عورت چاہے یا نہ، مگر اس رجوع کے بعد آئندہ طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز کرے ،اور اگر شوہر عدت (تین ما ہوا ریاں گزرنے)تک رجوع نہ کرے ،تو بیوی کسی دوسری جگہ عقد ِنکاح کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہو گی، جبکہ باقی الفاظ چلی جاؤ وغیرہ سے اگر شوہر کی نیت وارا دہ طلاق کی نہ ہو تو ان سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ففي الفتاوى الهندية: ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أو قال قد طلقتك قد طلقتك أو قال أنت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها اھ (1/ 355)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: المعاشرة بالمعروف: يجب على الزوج معاشرة الزوجة بالمعروف، لقوله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء:19/ 4]. (9/ 6848)۔
وفيه ايضا : للزوج الحق في تأديب زوجته عند نشوزها أو عصيانها أمره بالمعروف لا في المعصية؛ لأن الله عز وجل أمر بتأديب النساء بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن اھ (9/ 6854) واللہ اعلم بالصواب