السلام عليكم !ایک شخص کی شادی ہو چکی ہے مگر رخصتی نہیں ہوئی،اور اگر کوئی اس سے پوچھے کہ آپ نے بھی شادی کی ہے ،تو نفی کے ساتھ جواب دیتا ہے ، حالانکہ پبلک کے سامنے اس شخص کی شادی ہوئی تھی ،اور اسی طرح کہنے سے اس کا ارادہ طلاق کا بھی نہیں ہے ، تو آیا اس طرح کہنے سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا کہ نہیں؟
اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو مذکور جملہ استعمال کرنے سے اگر چہ اس کے عقد نکاح پر شرعاً کوئی اثر نہیں پڑیگا ،مگر اس طرح کہنا جھوٹ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
وفي الهندية : أوسئل فقيل له هل لک امرأة فقال لا فان قال اردت به الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعا ولا يقع الطلاق ، وان قال نويت الطلاق يقع الطلاق في قول ابی حنيفة رحمة الله تعالى ..... ولو قال مالى امرأة لا يقع وإن نوی اھ (1 /375)۔