کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام بابت ان مسائل کے
(1) :کیا کوئی شخص واپڈا ٹاون میں ملتان یا پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں پلاٹ کی فائلز کی خرید وفروخت کر سکتا ہے؟ جبکہ پلاٹ کی کوئی علامت یا نشانی یا حد نہیں دی گئی۔
(2): اور کیا اس طرح کا معاملہ ڈی ایچ اے اسکیم کے تحت کیا جاسکتا ہے؟
(3): کیا یہ معاملہ تعامل الناس کی وجہ سے کرنا جائز ہوگا؟
(4) :ہمارے معلومات کے تحت اگر معاملہ کرتے وقت چند چیزیں عقد میں مبہم ہو تو شریعت نے اس قسم کی خرید و فروخت سے منع کیا ہے۔
اگر محض فائلوں کی خریداری نہ ہو، بلکہ واپڈا ٹاون اور ڈی ایچ اے کے مذکور فائلوں کے پیچھے پلاٹ موجود ہوں ،تو اگر چہ اس پر نمبر وغیرہ نہ لگے ہوں، تب بھی خرید و فروخت جائز ہے ،جبکہ غیر منقولی چیزیں جیسے زمین وغیرہ میں خریدنے کے بعد آگے بیچنے کے لئے با ضابطہ قبضہ ضروری نہیں۔
كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) (إلی قوله) ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه اھ (5/ 147)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1