میری شادی کو دس ماہ ہو گئے ہیں، میں طلاق کے بارے میں وسوسے میں رہتا ہوں، میں نے زبان سے کوئی لفظ ادا نہیں کیا، اس وسوسے کی وجہ سے میری نماز بھی خراب ہو جاتی ہے، ہر چیز پر طلاق کا خیال دل میں آتا ہے ، حالانکہ میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں ، کیا ایسے میں طلاق ہو جاتی ہے؟ یا دل میں سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا ، اتنا پریشان کہ کبھی خود کشی کا من کرتا ہے، کبھی کبھار دل میں طلاق کی تعداد بھی آجاتی ہے، از راہ کرم میری راہ نمائی فرمائیں۔
طلاق کے متعلق دل میں خیالات (وسوسے) آنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لئے سائل کو اس سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به أو تتكلم» اھ (1/ 26)۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس اھ (4/ 224) واللہ اعلم بالصواب