السلام علیکم!
مفتی صاحب مجھے طلاق کے مسئلے پر رہنمائی چاہیئے , میری بہن کو پہلی طلاق کا نوٹس 2015-09-19 کو موصول ہوا , دوسرا 2015-10-26 کو موصول ہوا لیکن صلح نہ ہو سکی اور پہلے نوٹس سے شروع ہونے والے 90 دن بھی گزر چکے , رجوع نہ کیا گیا ان 2 طلاق کے بعد , کیا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟90 دن کی شرعی پابندی پوری ہونے کے بعد ,تیسری طلاق کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟ اگر تیسرا نوٹس 100 دن گزرنے کے بعد بھی نہ دیا گیا ہو جبکہ نکاح تو 90 دن گزرنے کے بعد شرعی طور پر ختم ہو چکا -
نوٹ: لڑکی اپنی تین ماہواری بھی پوری کرچکی 90 دن میں , فتوی میں تیسرا نوٹس جو کہ 100 یا زیادہ دن گزرنے پر نہ دیا گیا ہو , شرعی حیثیت ضرور بیان کریں۔ جلد رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
سائل کی بہن کو جب شوہر نے تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے صرف دو طلاقوں کا نوٹس بھیج دیا تو اس سے اسکی بہن پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھیں , جو عدت گزرنے کی وجہ سے بائن بن چکی ہیں اور ان کے درمیان عقدِ نکاح ختم ہو چکا ہے , اب رجوع نہیں ہوسکتا اور تیسری طلاق بھی محل نہ ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوگی , اسلئے سائل کی بہن کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے -
تا ہم اگر سائل کی بہن اور بہنوئی باہمی رضامندی سے دوبارہ عقدِ نکاح کرنا چاہیں تو گواہان کی مودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی کر سکتے ہیں مگر اس نکاح کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار رہے گا اس لئے آئندہ اس کو طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کرنا چاہیئے ۔
في الدرالمختار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية:الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.اھ(3/246)
وفی الھندیة:إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.(1/526)