السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! سب سے پہلے درخواست یہ ہے کہ مجھے مندرجہ ذیل وظیفہ کی اجازت مرحمت فرما دیں، عشاء کی نماز کے بعد”یَا وَدُوْدُ،یَا رَحِیْمُ،یَا رَؤُفُ“ کو تین سو بار پڑھنا ہے، اول و آخر تین بار درود شریف، میرا نام ۔۔۔ہے، میں ستائیس سال کا ہوں، الحمد الله! میری ایک اچھی جگہ نوکری لگی ہوئی ہے اور پڑھا لکھا بھی ہوں، میرے گھر والوں نے میرے لئے میری ایک کزن کا رشتہ طے کر لیا ہے اور لڑکی والے بھی موافق ہیں، لڑکی بھی مجھے ایک اچھا انسان سمجھتے ہوئے مجھے پسند کرتی ہے، مگر اس کا کہنا یہ ہے کہ آپ میرے اچھے کزن ہیں، مگر میرے ذہن میں اس بات کا ذرہ بھی خیال نہیں کہ آپ میرے شوہر ہوں گے (یعنی میرا ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر رہا) میں یہ وظیفہ اس کیلئے کر رہا ہوں کہ وہ لڑکی مجھ سے دل سے شادی کرنے کیلئے راضی ہو جائے اور ہم ایک اچھی زندگی گزار سکیں، برائے کرم میرا مسئلہ حل فرمائیں اور اس وظیفہ کی اجازت مرحمت فرمائیں، کیونکہ یہ وظیفہ اجازت ملنے پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
رخصتی سے قبل سائل کی بیوی کا پرانے رشتے کا تصور اور خیال اپنے ذہن میں لانا ایک فطری چیز ہے، جو رخصتی کے بعد خود بخود ختم ہو جائے گا،البتہ سائل رخصتی کے بعد زوجین میں موافقت کیلئے دعا اور مذکور وظیفہ کر سکتا ہے۔
کما في رد المحتار: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ (6/363)