11مارچ 2016 کو میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی اوراسکی عدت کے دوران میں نے اس سےر جوع نہیں کیا، اب مجھے حق ہے کہ میں اسے تیسری طلاق دے سکوں عدت کے بعد تیسری طلاق مؤثر ہوگی یا نہیں ؟
سائل نے اگر واقعۃً دوران عدت بیوی سے رجوع نہ کیا ہو تو اب اس کو عدت گزر جانےکے بعد تیسری طلاق دینے کا حق نہیں ہے۔
کمافی الھدایة: " وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231](2/ 354)
وفی بدائع الصنائع: (فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك اھ (3/ 126)