میں نے اپنی بیوی کو ایک سال پہلے غصے میں دو بار طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کر دئے، اس کے بعد تعلقات پھر اچھے ہو گئے، اوراللہ نے بیٹی بھی دی تو کیا وہ دو طلاق ختم ہو گئیں ہمبستری سے اور اب دوبارہ ایک سال بعد بیوی نے بہت بار منہ سے طلاق دے دو کہا، ایک دن تنگ آکر میں نے کہا جاؤ دے دی ، لیکن منہ سے طلاق نہیں کہا اور کہا چلی جاؤ دے دی، اگر ایسا ہے بھی تو یہ ایک بار ہو گی ، اس کا کیا حکم ہے؟
سابقہ دو طلاقوں کے بعد جب سائل نے رجوع کر لیا تھا تو رجوع کے بعد دونوں کو میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا درست تھا مگر اس رجوع کی وجہ سے وہ دو طلاقیں ختم نہیں ہوئیں تھیں اب اگر ”جاؤ دیدی“ کے الفاظ سے طلاق کی نیت کر لی تھی تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ با ہم عقدنکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الھدایة: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض الخ(2/254)۔
وفیھاایضاً: " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "(2/257)۔