میں نے میزان بینک میں کچھ سرمایہ کاری کی ہے، اس سرمایہ کاری کے بعد سے میں ، میری بیوی ، میرا بیٹا بیمار ہو گئے، اور ایک بچے کے اسکول کا نتیجہ بھی خراب آیا ، اس قیاس کی بنیاد پر کہ شاید اس میں کچھ سودی پیسہ بھی آرہا ہے ، جس کی وجہ سے ہم سب مشکل میں ہیں، میں نے یہ نیت کرلی ہے کہ میں سرمایہ کاری نکال لوں گا ،اور سارا منافع خیرات کردوں گا ، قرآن و سنت کی روشنی میں میرے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا میں ساری نیت پوری کر کے یہ اکاؤنٹ دوبارہ کھول سکتا ہوں، یا اگر نیت پوری نہ کرنا چاہوں تو کیا کفارہ ہو گا؟
واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے اکثر معاملات شرعی ایڈوائزر کی نگرانی اور اصولِِ شرعیہ کے موافق ہوتے ہیں ، اس لئے سائل یا دیگر لوگوں کیلئے اس میں سرمایہ کاری کرنا ، اور اس پر منافع لینا درست ہے۔ بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جبکہ سائل پر صرف نیت کرنے کی وجہ سے مذکور تمام منافع خیرات کرنا بھی لازم نہیں، اور نہ ہی کوئی کفارہ لازم ہے۔
ففي الدر المختار: وشرطها الإسلام والتكليف وإمكان البر. وحكمها البر أو الكفارة. وركنها اللفظ المستعمل فيها اھ (3/ 704)۔
وفي حاشية ابن عابدين: والحلف بالعربية أن يقول في الإثبات والله لأفعلن اھ (3/ 724)۔